مجھے قاتلوں سے گلہ نہیں ہے، محافظوں سے سوال ہے …

Standard

مجھے قاتلوں سے گلہ نہیں ہے، محافظوں سے سوال ہےمرے بچے سہمے گلی میں جانے سے ڈرتے ہیں

مرے لوگ سڑکوں پہ مرتے ہیں

مجھے اپنے شہر میں امن کےلئے کتنی بہنیں گنوانی ہیں؟

ابھی کتنی لاشیں اُٹھانی ہیں؟

وہ بندوق جو بڑے شوق سے تمہیں لے کے دی تھی کہاں گئی؟

وہ جومہنگی سی نئی توپ تھی، چلی کیوں نہیں؟

وہ جو تِیر میرے دِفاع میں مرے دشمنوں پہ برسنا تھا

وہ کماں میں کیوں ہے رُکا ہوا؟

مرے دشمنوں کا سراغ جس نے لگانا تھا، وہ کیا ہوا؟

مجھے قاتلوں سے گلہ نہیں ہے، محافظوں سے سوال ہے…

سفیراللہ خان