ایک دوسرے کا خون پئیں …

Standard

ایک وقت
جس کا شدت سے تھا انتظار
کہ
بس آ ہی چکی قضا
اجڑ جائیں یہ گلستاں
آؤ
میں اور تم!
کُشت کی ہولی کھیل کر
مندر میں جے جے کار کریں

مستی میں ڈوب کر
آؤ کچھ دیر
یسوع کو بھول کر
گرجا میں رنگ کچھ بہائیں

آؤ کہ اب
مسجد آباد ہونے کو ہے
کچھ اس میں
رنگ و بارود کی بُو گھول کر
نور کی بہار کریں

کر رہا ہے گردش
جشم و جاں میں الگ الگ
آؤ اس گرم محلول کو
کو دوام ہم بخش دیں

ہے الگ الگ جو
رنگ و نسل میں جاری
اس خون کو سرِ بازار یکجا کردیں

رام، یسوع و خدا
کی زمیں پر
ہر سُو خون کی بارش میں
نہائیں
شاید اس سے بھی
تھک جائیں
میں اور تم ایک دن
تو پھر آؤ

آؤ میں اور تم
ایک دوسرے کا خون پئیں …

اسد
Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s